از قلم: مولانا عقیل رضا ترابی، مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ الہند
حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ کے سفر میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے زمانے میں صرف ایک فرد، ایک رہنما یا ایک تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں جیتیं؛ بلکہ رفتہ رفتہ ایک عہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کی زندگی کے واقعات تاریخ کا حصہ بنتے ہیں، ان کی گفتگو اجتماعی حافظے میں محفوظ رہتی ہے، ان کے فیصلے بحث و تحقیق کا موضوع بنتے ہیں اور ان کی شہادت یا وفات کے بعد بھی ان سے وابستہ افکار، سوالات اور نظریات نئی نسلوں کے سامنے زندہ رہتے ہیں۔
سید حسن نصراللہؒ بھی معاصر مشرقِ وسطیٰ کی ایسی ہی ایک نمایاں شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت کو صرف سیاسی، عسکری یا تنظیمی زاویے سے دیکھنا ان کے طویل سفر کو محدود کردینا ہوگا۔ ان کے کردار میں ایک مذہبی طالب علم، عالم، خطیب، تنظیمی رہنما اور ایک ایسے سیاسی و اجتماعی قائد کے کئی پہلو جمع تھے، جس نے اپنی پوری زندگی لبنان، فلسطین اور خطے میں جاری پیچیدہ کشمکش کے درمیان گزاری۔
ان کے حامیوں کے نزدیک وہ مزاحمت، استقامت اور دفاع کی علامت تھے، جبکہ ان کے ناقدین ان کی قیادت اور حزب اللہ کے علاقائی کردار کو مختلف سیاسی اور جغرافیائی تناظرات میں دیکھتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سید حسن نصراللہؒ کا مطالعہ جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ تاریخی شعور، علمی دیانت اور مختلف زاویۂ ہائے نظر کو سمجھنے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
مگر ان تمام اختلافات کے درمیان ایک حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ تقریباً تین دہائیوں تک حزب اللہ کی قیادت کرنے والے سید حسن نصراللہؒ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، لبنان کی داخلی صورتِ حال اور اسرائیل۔حزب اللہ تنازع پر گہرا اثر چھوڑا۔
مکتبِ عاشورا اور تشکیلِ شخصیت
سید حسن نصراللہؒ کی فکری شخصیت کو سمجھنے کے لیے مکتبِ اہل بیتؑ اور واقعۂ عاشورا کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ شیعی فکر میں کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق شناسی، عزت، آزادی، وفا، صبر، قربانی اور ذمہ داری کا ایک زندہ مدرسہ ہے۔
امام حسینؑ نے اپنے عمل سے یہ واضح کیا کہ دین محض عبادات اور انفرادی اصلاح کا نام نہیں، بلکہ انسان کے اجتماعی اور اخلاقی کردار سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ کربلا انسان کو یہ سوال دیتی ہے کہ جب حق و باطل کے درمیان امتیاز واضح ہوجائے تو انسان کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ جب ظلم سامنے ہو تو خاموشی کی حدود کیا ہیں؟ اور جب قربانی کا وقت آئے تو ایمان کا تقاضا کیا ہے؟
سید حسن نصراللہؒ کی تقریروں اور سیاسی بیانیے میں عاشورا اور امام حسینؑ کی یاد ایک مستقل حوالہ رہی۔ ان کے لیے کربلا محض گریہ و عزاداری کی داستان نہیں بلکہ اجتماعی شعور اور استقامت کا سرچشمہ بھی تھی۔
یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ عاشورا کی حقیقی روح کو صرف جذباتی نعروں میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ عاشورا معرفت بھی ہے، اخلاق بھی؛ بصیرت بھی ہے، وفا بھی؛ صبر بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اسی جامع تناظر میں دیکھا جائے تو سید حسن نصراللہؒ کی زندگی میں مذہبی شعور اور اجتماعی جدوجہد کا امتزاج زیادہ واضح ہوتا ہے۔
علم سے میدانِ عمل تک
سید حسن نصراللہؒ کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کا مذہبی و حوزوی پس منظر تھا۔ وہ ایسے ماحول سے آئے جہاں دینی تعلیم، مذہبی شناخت اور اجتماعی مسائل ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔
ان کی شخصیت میں خطابت کی قوت کے ساتھ مذہبی اصطلاحات اور اسلامی تاریخ کا گہرا استعمال نمایاں تھا۔ ان کی گفتگو میں قرآن، اہل بیتؑ، عاشورا، شہادت، مقاومت اور فلسطین جیسے موضوعات ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت کو صرف سیاسی حکمتِ عملی کے زاویے سے سمجھنا کافی نہیں۔ ان کے لیے مذہبی شناخت اور سیاسی و اجتماعی جدوجہد کے درمیان ایک فکری ربط موجود تھا۔
1992ء میں سید عباس موسوی کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد سید حسن نصراللہؒ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً پینتیس برس تھی۔ اس کے بعد وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس تنظیم کی قیادت کرتے رہے۔
یہ مدت لبنان اور پورے خطے کے لیے غیر معمولی تبدیلیوں کا زمانہ تھی۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی، 2000ء کا انخلا، 2006ء کی جنگ، لبنان کی داخلی سیاست، شام کی جنگ اور پھر غزہ کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتِ حال—ان تمام مراحل میں سید حسن نصراللہؒ ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آتے رہے۔
مقاومت: ایک فکر اور ایک عملی تعبیر
سید حسن نصراللہؒ کی سیاسی شناخت کے ساتھ سب سے زیادہ وابستہ لفظ مقاومت ہے۔
حزب اللہ کے حامیوں کے نزدیک مقاومت کا مفہوم لبنان کے دفاع، اسرائیلی قبضے کے مقابل جدوجہد اور فلسطینی مسئلے کی حمایت سے جڑا ہوا تھا۔ اسی تصور نے تنظیم کے سیاسی اور عسکری بیانیے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
2000ء میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کو حزب اللہ نے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا۔ 2006ء کی اسرائیل۔حزب اللہ جنگ نے بھی سید حسن نصراللہؒ کی علاقائی شناخت کو مزید مضبوط کیا۔ اس جنگ کے بعد ان کی خطابت اور سیاسی اثرات لبنان کی سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے گئے۔
لیکن مقاومت کے تصور کو سمجھتے ہوئے اس کے گرد موجود اختلافات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حزب اللہ کے مخالفین نے اس کے عسکری اور علاقائی کردار کو لبنان کی خودمختاری اور ریاستی اختیار کے حوالے سے تنقید کا موضوع بنایا۔ شام کی جنگ میں حزب اللہ کی شرکت نے بھی اس بحث کو مزید پیچیدہ کردیا۔
علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی تاریخی شخصیت کا مطالعہ صرف عقیدت یا مخالفت کے ایک زاویے سے نہ کیا جائے۔ شخصیت کی خدمات، اثرات، فیصلوں اور ان پر ہونے والی تنقید—سب کو اپنے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے۔
خطابت: قیادت کا ایک مؤثر وسیلہ
سید حسن نصراللہؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی خطابت تھی۔ وہ جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے بڑے پیمانے پر اپنے حامیوں اور مخالفین دونوں سے مخاطب ہوتے تھے۔ ان کی تقریریں صرف حزب اللہ کے کارکنان تک محدود نہیں رہتی تھیں بلکہ لبنان اور پورے عرب خطے میں وسیع توجہ حاصل کرتی تھیں۔
ان کی خطابت میں تین چیزیں خاص طور پر نمایاں تھیں: تاریخی حوالہ، مذہبی استعارہ اور موجودہ سیاسی صورتِ حال کا تجزیہ۔
وہ اپنے مخاطبین کے سامنے موجودہ واقعات کو اسلامی تاریخ اور عاشورائی شعور کے ساتھ جوڑتے تھے۔ یہی اسلوب ان کی سیاسی خطابت کو محض روزمرہ سیاسی بیان سے بلند کرکے ایک فکری اور جذباتی بیانیے میں تبدیل کرتا تھا۔
ایک قائد کی اصل قوت صرف یہ نہیں کہ وہ خود کیا سوچتا ہے؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فکر کو عوام تک کس زبان اور کس انداز میں منتقل کرتا ہے۔ سید حسن نصراللہؒ اس فن میں نمایاں صلاحیت رکھتے تھے۔
فلسطین اور قدس: ایک مستقل محور
فلسطین کا مسئلہ سید حسن نصراللہؒ کے سیاسی بیانیے کا ایک بنیادی حصہ تھا۔ غزہ کی جنگ کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان۔اسرائیل سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئیں، اور حزب اللہ نے اپنے کردار کو فلسطینی عوام اور غزہ کی حمایت سے جوڑا۔
یہاں بھی مختلف زاویۂ نظر موجود رہے۔ حامیوں کے لیے فلسطین کی حمایت مقاومت کے وسیع تر تصور کا حصہ تھی، جبکہ مخالفین کے نزدیک اس علاقائی عسکری کردار نے لبنان کو مزید خطرات سے دوچار کیا۔
لیکن ایک تاریخی حقیقت یہ ہے کہ فلسطین اور قدس کا مسئلہ سید حسن نصراللہؒ کی سیاسی شناخت کا مستقل جزو رہا۔ ان کی تقاریر میں فلسطین صرف ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ امت کے اجتماعی شعور اور علاقائی سیاست کا مرکزی موضوع تھا۔
شام کی جنگ اور ایک پیچیدہ میراث
سید حسن نصراللہؒ کی قیادت کا ایک ایسا باب بھی ہے جس پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے: شام کی جنگ۔
حزب اللہ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوکر عسکری کردار ادا کیا۔ حزب اللہ کی جانب سے اس کردار کو مختلف اوقات میں دہشت گرد گروہوں کے مقابلے اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں پیش کیا گیا، جبکہ ناقدین نے اسے شام کے داخلی تنازع میں مداخلت اور علاقائی فرقہ وارانہ کشمکش کا حصہ قرار دیا۔
یہ اختلاف اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاصر سیاسی شخصیات کی میراث اکثر سیاہ و سفید خانوں میں تقسیم نہیں کی جاسکتی۔ ایک ہی واقعہ مختلف معاشروں اور سیاسی گروہوں کے لیے مختلف معانی رکھ سکتا ہے۔
لہٰذا سید حسن نصراللہؒ کا سنجیدہ مطالعہ جذباتی وابستگی سے آگے بڑھ کر تاریخی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
شہادت: 27 ستمبر 2024ء
27 ستمبر 2024ء کو بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک بڑے اسرائیلی فضائی حملے میں سید حسن نصراللہؒ شہید ہوئے۔ حزب اللہ نے 28 ستمبر کو ان کی شہادت کی تصدیق کی۔
یہ واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں تھا۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ایک تنظیم کی قیادت کرنے والے شخص کا منظر سے ہٹ جانا حزب اللہ کے لیے ایک بڑا قیادتی اور تنظیمی دھچکا تھا۔ بعد کے عرصے میں حزب اللہ کو مزید شدید عسکری و سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
سید حسن نصراللہؒ کی شہادت نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا:
کیا کسی قائد کی شہادت کے ساتھ اس کی فکر بھی ختم ہوجاتی ہے؟
تاریخ کا جواب ہے: ضروری نہیں۔
افراد رخصت ہوجاتے ہیں، مگر اگر ان کی زندگی نے کوئی فکری سوال، اجتماعی شعور یا اخلاقی تصور پیدا کیا ہو تو وہ سوال ان کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔
شخصیت سے فکر تک
برسی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم شخصیت کے احترام سے آگے بڑھ کر اس کے دور، فکر اور تجربے کا مطالعہ کریں۔
سید حسن نصراللہؒ کی زندگی سے سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیادت کیا ہے؟
کیا قیادت صرف منصب ہے؟
کیا قیادت صرف خطابت ہے؟
کیا قیادت صرف تنظیمی طاقت کا نام ہے؟
یا قیادت علم، مقصد، نظم، قربانی، اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کا مجموعہ ہے؟
ان کی زندگی کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک مؤثر قائد اپنے پیروکاروں کو صرف ہدایات نہیں دیتا بلکہ ان کے اندر ایک اجتماعی شعور بھی پیدا کرتا ہے۔ وہ انہیں کسی مقصد کے ساتھ جوڑتا ہے، انہیں ایک تاریخی تناظر فراہم کرتا ہے اور مشکل حالات میں حوصلہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی قائد کی میراث کو صرف اس کی کامیابیوں یا ناکامیوں کی فہرست سے نہیں سمجھا جاسکتا۔
نئی نسل کے لیے پیغام
آج جب ہم سید حسن نصراللہؒ کی برسی مناتے ہیں تو نئی نسل کے سامنے صرف ایک شخصیت کی یاد نہیں بلکہ ایک بڑا فکری سوال بھی موجود ہے:
ہم اپنے زمانے کے مسائل کو کس قدر سمجھتے ہیں؟
دین سے وابستہ نوجوان کے لیے صرف جذبات کافی نہیں۔ اسے علم چاہیے، مطالعہ چاہیے، تاریخ کا شعور چاہیے، قرآن و سیرت سے واقفیت چاہیے اور اپنے عہد کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت چاہیے۔
علم → فکر → بصیرت → کردار → خدمت → ذمہ داری
یہ وہ سلسلہ ہے جو کسی بھی معاشرے کی حقیقی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اگر نوجوان صرف شخصیات کے نعروں تک محدود ہوجائے اور ان کی زندگی کے علمی، اخلاقی اور اجتماعی پہلوؤں کو نظر انداز کردے تو شخصیت پرستی پیدا ہوسکتی ہے، مگر فکری تعمیر نہیں۔
اس لیے سید حسن نصراللہؒ کی زندگی کو نئی نسل کے لیے ایک مطالعۂ شخصیت کے طور پر پیش کرنا زیادہ مفید ہے—ایسا مطالعہ جس میں عقیدت کے ساتھ تحقیق، جذبات کے ساتھ بصیرت اور محبت کے ساتھ ذمہ داری بھی شامل ہو۔
عاشورا: صرف ماضی نہیں، ایک اخلاقی سوال
مکتبِ امام حسینؑ کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے زمانے کے حالات سے بے تعلق نہیں رہ سکتا۔
کربلا ہمیں صرف شہادت کی عظمت نہیں بتاتی؛ وہ ہمیں معرفت، وفا، صبر، عزت اور ذمہ داری کا درس بھی دیتی ہے۔
اسی لیے جب سید حسن نصراللہؒ کی زندگی کو عاشورائی تناظر میں دیکھا جائے تو ضروری ہے کہ ہم صرف ان کی شہادت کو موضوع نہ بنائیں بلکہ ان اصولوں پر بھی غور کریں جن سے وہ وابستگی کا اظہار کرتے رہے۔
عاشورا کو زندہ رکھنے کا مطلب صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں؛ بلکہ اپنے عہد کے اخلاقی سوالات کو سمجھنا بھی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں شہادت، عزاداری اور اجتماعی ذمہ داری ایک دوسرے سے مربوط ہوجاتے ہیں۔
شہادت کے بعد باقی رہ جانے والا سوال
سید حسن نصراللہؒ 27 ستمبر 2024ء کو شہید ہوگئے، مگر ان سے وابستہ تاریخی سوالات آج بھی باقی ہیں۔
ان کے حامی انہیں مزاحمت اور استقامت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے مخالفین ان کی سیاسی و عسکری میراث کا مختلف انداز میں جائزہ لیتے ہیں۔ مورخ کے لیے وہ لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کی ایک انتہائی اہم اور پیچیدہ سیاسی تاریخ کے مرکزی کردار ہیں۔
ان تمام زاویوں کے باوجود ایک بات پر غور ضروری ہے:
کسی شخصیت کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ صرف اس کی تصویر کو زندہ رکھنا نہیں، بلکہ اس کے دور کو سمجھنا ہے۔
اس کے فیصلوں کو پڑھنا ہے۔
اس کے زمانے کے حالات کو جاننا ہے۔
اس کے افکار کا تجزیہ کرنا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھنا ہے کہ اس کی زندگی ہمیں اپنے زمانے کے بارے میں کیا سوال دے کر گئی ہے۔
ایک قائد رخصت ہوا، ایک سوال باقی رہ گیا
سید حسن نصراللہؒ کی زندگی ایک ایسے دور کی داستان ہے جس میں لبنان، فلسطین، اسرائیل، ایران، شام اور پوری مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی رہی۔
وہ ایک عالم تھے، خطیب تھے، تنظیمی قائد تھے، سیاسی شخصیت تھے اور اپنے حامیوں کے لیے ایک مزاحمتی رہنما تھے۔ ان کے کردار کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں اور تاریخ ان کے فیصلوں کا مزید مطالعہ کرتی رہے گی۔
مگر ان کی شہادت نے ایک حقیقت ضرور واضح کردی کہ بعض شخصیات اپنی زندگی سے کہیں زیادہ بڑا سوال اپنے بعد چھوڑ جاتی ہیں۔
سید حسن نصراللہؒ کی شہادت ایک شخصیت کا اختتام تھی، مگر ان سے وابستہ فکر، سوالات اور تاریخی تجربات کا اختتام نہیں۔
آج ان کی برسی پر سب سے اہم بات یہ نہیں کہ ہم صرف ان کے نام کے ساتھ کتنے نعرے بلند کرتے ہیں؛ اہم یہ ہے کہ ہم ان کی زندگی سے علم، بصیرت، نظم، استقامت، اجتماعی ذمہ داری اور اپنے عہد کو سمجھنے کا شعور کس حد تک حاصل کرتے ہیں۔
شخصیات رخصت ہوجاتی ہیں، مگر ان کے چھوڑے ہوئے سوال باقی رہتے ہیں۔
اور شاید کسی قائد کی سب سے بڑی میراث یہی ہوتی ہے کہ اس کے بعد آنے والی نسل اس کے زمانے کو پڑھتے ہوئے اپنے زمانے کو سمجھنے لگے۔
سید حسن نصراللہؒ کی شہادت ہمیں ماضی کی ایک داستان سنانے کے ساتھ مستقبل کا ایک سوال بھی دیتی ہے:
ہم اپنے عہد کے حق و باطل، ظلم و عدل، آزادی و ذمہ داری کے سوالات کو کس بصیرت کے ساتھ سمجھیں گے، اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا کردار چھوڑ کر جائیں گے؟
یہی سوال شہادت کو محض ایک یادگار واقعہ نہیں رہنے دیتا؛ اسے فکر، شعور اور ذمہ داری کی امانت بنا دیتا ہے۔










آپ کا تبصرہ